رشتوں کی اہمیت

اِس دنیا میں ہر قسم کے لوگ  ملتے ہیں مطلب امیر بھی اور غریب بھی۔ آج میں جس لڑکی کی کہانی سنانے لگی ہوں اُس کی جگہ میں خود کو رکھ کر یہ کہانی اپنی زبانی سناؤں گی، کیوں کہ میں اُس کیفیت کو محسوس کرنا چاہتی ہوں پھر ہی میں اچھا لکھ پاؤں گی۔ اس کہانی میں لفظ "میں، میری، اور میرے" سے مراد وہ لڑکی ہوگی جسکی کہانی میں بیان کرنے جا رہی ہوں-  جب تک ہم کفیت اپنے اندر پیدا نہ کریں تب تک ہم اچھا نہیں لکھ سکتے۔ امید ہے کہانی اچھی ضرور لگے گی ۔
اگر میں اپنی بات کروں تو میں ایک امیر گھر سے تعلق رکھتی ہوں۔ میرا نام شبانہ ہے میں کالج کی طالب علم ہوں۔ بدقسمتی سے امیر ہوں یا شاید قسمت میں ہی یہ سب تھا، آپ سب سوچ رہے ہوں گے میں بدقسمت کیوں کہہ  رہی خود کو وہ بھی ایک امیر گھر سے ہو کر!!!
 ایک چھوٹی سی بات بتاتی ہوں پھر میں اپنی بھی کہانی بتاؤں گی، چھوٹی بات یہ کہ جس طرح جینے کے لیے پانی اور ہوا کی ضرورت ہوتی ہے نہ اُسی طرح امیری کے ساتھ محبت، احساس اور اپنے پن کی بھی ضرورت ہوتی ہے امیر ہونا کوئی بڑی بات نہیں، امیری کے ساتھ محبت بھی بہت ضروری ہے۔
اگر اِس کہانی کو آپ بیتی کہیں تو ہاں یہ میری آپ بیتی ہی ہے۔ میری فیملی میں 9 افراد ہیں، میں ہوں میرے 2 دو بہن بھائی، پاپا، ماں، تایا ابو، تائی امی اور اُنکے 2 بچے۔ میری بڑی بہن کی شادی ہو چُکی ہے تو اب 8 افراد ہیں اور جب پورا خاندان اِکھٹا ہوتا تو پورا بنگلہ بھی کم پڑ جاتا ہے، بہر حال میں بس اپنی فیملی کی ہی بات کروں گی۔ میرا گھر اتنا بڑا ہے کہ اِس کے ایک کمرے کی بات کریں تو 3 مرلے کا ایک کمرہ ہے اور باتھروم الگ ہی ایک مرلے کا ہے تو اس طرح پورا کمرہ باتھروم ملا کے 4 مرلے کا ہے میرا کمرہ ایک پرنسیس کی طرح ہے، جس سے میں خوش بھی تھی لیکن اُس وقت تک جب مجھے کچھ ہوا نہیں تھا۔
صبح سب اُٹھتے ہیں لیکن ایک ساتھ نہیں جِسکا جب کام ہے اُسی وقت اُٹھنا اور ناشتہ کئے بغیر اپنے کام پر چلے جانا حتٰی کہ کسی کو سلام کرنے کی بھی فرصت نہیں ہوتی۔ یہ صرف ایک دن کی روٹین نہیں ہے برسوں سے چلتی آ رہی ہے لیکن کبھی تو اِسکو ختم ہونا تھا۔ میں بھی ایسی ہی ہوں لیکن کالج جاتے وقت ماں کو ضرور بتا دیتی ہوں۔ اگر ماں کی بات کریں تو میری ماں بھی ایک بزنس وومین ہیں اُنکے پاس بھی کسی کے لیے وقت نہیں ہوتا۔ میں ایک واحد ہوں جو پورے گھر میں دیکھتی ہوں کہ کون ہے گھر میں اور کون نہیں اگر کوئی نظر آ جائے تو سلام کرتی ہوں پھر پلٹ کر جواب آتا یا نہیں، یہ کہنا تھوڑا مشکل ہے، پاپا سے پیار لینے کے لیے سر کو جُھکا بھی دوں تو بس چلتے چلتے پیار مل  جاتا ہے۔ دراصل میں گھر میں سب سے چھوٹی ہوں تو اس لیے پیار بانٹنا اور لینا اچھا لگتا ہے لیکن میں پھر بھی تھوڑی ادھوری ہی رہ جاتی پیار لینے میں۔
 ایک دن (4 فروری 2018 کو ) میں کالج سے آ کر کچھ زیادہ ہی تھک گئی تھی مجھے لگا کےتھکاوٹ کی وجہ سے کمزوری ہو رہی ہے تو میں کھانا کھائے بغیر ہی سو گئی، سمجھ ہی نہ آیا کے آج میرے ساتھ کیا ہوا !!! شام ہو گئی لیکن میں سوتی رہی، کیسے اٹھتی؟ جب کوئی اٹھانے والا ہی نہیں تھا۔ آخر کار رات 7 بجے آنکھ کُھلی اور  ڈبل روٹی  وغیرہ کھا کر ساتھ ہی پیناڈول لے لی، کچھ دیر کے لیے ٹھیک تو ہو گئی پر حالت پھر خراب ہونے لگی۔میں خود کو بہت کمزور محسوس کر رہی تھی۔
انتظارکرتی رہی کوئی  کمرے میں آئے گا لیکن سب اپنے اپنے کمروں  میں  تھے۔  میں اٹھ بھی نہیں پا رہی تھی اس لیے میں کسی کو کچھ بتا نہ سکی۔ اُسی  وقت بچپن کی ایک بات یاد آ گئی:  مجھے اِسی طرح بخار ہوا تھا اور صبح ماں کمرے  میں آئی اور کہا اسکول نہیں گئی؟ میں نے کہا بخار ہے اُنہوں نے کچھ کئے بغیر یہ کہہ کر دروازہ بند کر دیا کہ کوئی نہیں جب ٹھیک ہو جاؤ تو اسکول چلی جانا۔ سوچا صبح ماں آ کر پوچھیں گیں کہ کالج کیوں نہیں گئی؟ تو سب بتا دوں گی پھر ڈاکٹر کے پاس چلی جاؤں گی۔
 جب صبح کالج کے لیے نہیں اٹھی اور ماں کے پاس نہیں گئی تو کمرے میں آ کر پوچھا: آج کالج کیوں نہیں گئی؟ میں  نے آہستگی میں جواب دیا؛ طبیعت بہت خراب ہے ابھی کچھ آگے کہہ پاتی  کے اس سے پہلے ہی وہ ہی الفاظ(جب ٹھیک ہو جاؤ تو چلی جانا) سننے کو ملے اور ماں یہ کہہ کر پھر سے دروازہ بند کر کی چلی گئیں۔ میں نے آواز بھی لگائی لیکن یہاں کے موٹے اور مضبوط امیروں والے دروازے میری آواز باہر تک نہ پہنچا  سکے، اِن دروازوں کا پھر فائدہ ہی کیا!!؟  آواز اور بھی اونچی نکالتی تو باہر نہ جاتی کیوں کہ یہاں کے بڑے بڑے اور دروازوں کے دور دور ہونے کی وجہ سے  آواز باہر سنائی بھی نہیں دے  سکتی تھے۔  اٹھنے کی ہمت نہ ہونے کی وجہ سے میں باہر نہ  جاسکی۔  2 دن گزر گئے کوئی نہ آیا میں کس حالت میں ہوں یا میں زندہ ہوں بھی یا نہیں، میں بھوکی تھی ویسے بھی  کچھ کھانے کا من بھی نہیں تھا،  پر کوئی نہ آیا  میں ایک لاچار اور بیحد بیمار مریض کی طرح پڑی ہوئی تھی، بس نظریں دروازے پر ہوتیں اور سوچتی رہتی میں بدقسمت ہوں یا امیر ہوں تو اس وجہ سے  خوش قسمت ہوں، لیکن وہ تو اب سمجھ آتا بدقسمتی ہی ہے کہ کوئی آپکا حال پوچھنے والا نہیں۔ میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں، مجھے تکلیف ہو رہی تھی، آنکھوں میں آنسو تھے گپت اندھیرا تھا، ڈر بھی رہی تھی کہ مجھے آخر ہوا کیا ہے اور مجھے ہی کیوں ہوا یہ سب؟
 تیسرے دن میری ماں پھر صبح آئی اور پوچھا: آج بھی نہیں گئی کالج ؟ میں کچھ نہ بول سکی میری حالت ہی نہیں تھی کچھ کہنے کی اور میں خود بھی کچھ کہنا نہیں چاہتی، کیا پتہ اس بار بھی ماں دروازہ بند کر کے چلی جاتیں، جب اُنکو محسوس ہوا کے میں زیادہ بیمار ہوں تو مجھے اٹھا کر شبانہ شبانہ کہنے لگیں میں نے آہستہ آواز میں بس ماں بولا پھر میں بیہوش ہو گئی اُس کے بعد میری آنکھ ایک پرائیویٹ ہسپتال میں کُھلیں۔
میں کچھ مشینوں کے درمیان ایک بیڈ پر پڑی ہوئی تھی میرے پاس ایک نرس کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ جب نرس سے پوچھا میں کب سے ہوں ہسپتال؟ تو پوچھنے پر پتا چلا   2 دن ہو چُکے ہیں۔ اور اسکے علاوہ مجھے کچھ بھی نہ بتایا پھر آرام کا کہہ کر میری ڈرپ میں کچھ انجکشن ڈالنے لگی۔ میں پھر بھی درد میں تھی کچھ کہنے کی بجائے چُپ رہنا پسند کیا اور پھر سے راہ تکتی رہی کے ماں پتہ کرنے آئے گی۔ میری دیکھ بھال ایک پرائیویٹ بہت مہنگے والے ہسپتال میں ہو رہی تھی، میں یہ بات جانتی تھی کوئی مجھے سنبھال نہیں سکے گا گھر میں اس لیے میں جہاں ہوں وہ نرس ہی مجھے سنبھالیں گی کیوں کہ ان کو پیسے چاہیے ہوتے ہیں۔ بات پتہ کیا تھی بس مجھے اپنی فیملی کی ضرورت تھی پر اتنا کافی تھا کہ میں زندہ ہسپتال تو ہوں نہ، دوسری طرف اُس زندگی کا کیا فائدہ جب میری ماں میرے پاس نہیں، پاپا پاس نہیں کوئی بھی نہیں پاس۔ میں رونا چاہ رہی تھی اُس وقت مگر کسی کو کیا بتاتی اس لیے خود کو مضبوط کیا۔نرس کو کہہ کر گھر بات کی سب مصروف تھے میری حالت اور بگڑ رہی تھی میں نے آخر کار نرس سے پوچھ لیا کے مجھے ہوا کیا ہے ؟ وہ بولی بس آپ آرام کرو۔ کئی دن گزر گئے حالت میں کوئی سدھار نہ آیا پھر پاپا کو فون کیا تو کہنے لگے میں صبح آؤں گا یہ سن کر سکون ملا۔  ایک رات اور کاٹ کر صبح کا انتظار کیا پاپا کی آواز آئی (شبانہ) میں زور زور سے رونے لگی پاپا مجھے کیا ہوا ہے؟ پاپا نے کہا میں نرس کو کہہ کر سارے ٹیسٹس کرواتا ہوں جلد پتا لگ جائے گا اور شبانہ میں کچھ دن مصروف رہوں گا تم فکر نہ کرو ٹھیک ہو جاؤ گی، اب میں چلتا ہوں۔ میں خاموش رہی کیوں کہ میں خود بھی حیران تھی جیسے یہ میرے والدین ہیں ہی نہیں۔ کیا یہ مجھے چاھتے نہیں؟ کیا یہ پیسہ اسی لیے کما رہے تاکہ ہم عیش وآرام سے رہیں؟ مگر میں اُس وقت اِس عیش و آرام پر لعنت بھیج رہی تھی جس میں دو پل کی محبت اور سکون تک نہ تھا۔
اُس وقت میں اکیلی تھی، نہ بھائی تھا، نہ تایا ابو نہ ہی ماں، کوئی مجھے دیکھنے تک نہ آیا۔ میری کیفیت ایک اپاہج سے بھی بدتر تھی- میں زندہ تو تھی لیکن ہسپتال کی نرس کی محتاج بن کر، آنکھ ہر پل نم رہنے لگی دل ٹوٹ سا گیا تھا ہمّت ہار رہی تھی۔ امیر امیر امیر کہاں کی نصیب والی ہوں میں؟  غریب گھر میں ہوتی تو وہ خود مجھے سنبھالتے پیار کرتے دیکھ بھال کرتے۔
‌بلڈ ٹیسٹ اور الٹرا ساؤنڈ ہونے کے بعد رپورٹس آ گئیں میں ڈر رہی تھی کہ کوئی بڑی بیماری نہ نکل آئے اور میرا ڈر یقین میں بدل گیا۔  میں نے نرس سے پوچھا کیا ہوا ہے مجھے؟  اُسکا ایک ہی جواب آرام کرو، جو میری ماں اُسکو کہہ کر گئی تھی بس وہ ہی الفاظ بار بار کہے جارہے تھے مجھ سے، مگر سب کچھ میری برداشت سے باہر تھا میں زور زور سے رونے لگی بس بتا دو آخر کیا ہے مجھے؟ کیوں قید کیا ہوا ہے مجھے؟ کمرے سے باہر آوازیں جانیں لگی نرس گھبرا گئی اور  ڈاکٹر ڈاکٹر کہتے باہر گئی اور ڈاکٹر کو لے آئی، میں نے رونا بند کیا اور آہستگی سے پوچھا ڈاکٹر مجھے کیا ہوا ہے؟ تھوڑی دیر چپ رہے پھر بولے بیٹا گھبراؤ نہیں اس بیماری کا علاج ہے بس آپ کے گھر سے کوئی آ جائے تو بات کر کے علاج شروع کرتے ہیں۔ اور ہاں  آپکے دونوں گردے فیل ہیں اور تبدیل ہوں گے، آپ کی فیملی ممبر سے کوئی ایک دے گا تو ٹھیک ہو جاؤ گی، میں ایک زندہ لاش کی طرح لیٹ گئی کچھ بھی نہ بولی ڈاکٹر صاحب بھی چلے گئے۔ گھر سے کوئی نہ آیا سچ تو یہ ہے کے کوئی گردہ دے گا ہی نہیں وہ سب تو اور امیر ہونا چاھتے ہیں نہ، اور ایسا ہی ہوا جب ماں اور پاپا دونوں آئے تو ڈاکٹر سے کہنے لگے: کیا یہ کسی اور  کےنہیں مل سکتے؟ جتنے کے بھی ہوں گے ہم پیسے ادا کر دیں گے۔ مطلب یہ گردے بھی خرید کے دینا چاھتے تھے اتنا مجھے میری بیماری نے تنگ نہیں کیا ہوا تھا جتنا اپنوں کو ایسے دیکھ کر غم زدہ تھی۔ ڈاکٹر نے اجازت تو دے دی لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ : ٹھیک ہے لیکن اُس وقت تک ہمیں گردے واش کرتے رہنا ہوگا۔ کسی کے گردے لینا کوئی مشکل نہ تھا کیوں کے میرے گھر والے پیسوں سے خرید سکتے تھے پر اُنکو کیا پتہ تھا میری قسمت میں ہی کچھ اور لکھا ہے۔ اُنہوں نے یہ کام بھی ڈاکٹرز پر چھوڑ دیا جتنے پیسوں کے ہوں گے ہم ادا کریں گے آپ انتظام کر لیں، میری حالت ایسی تھی بس میں دیکھ سکتی تھی لیکن کچھ کر نہیں سکتی تھی۔ 4 ماہ کا وقت دیا تھا کہ اُس وقت تک گردے مل جائیں ۔ اگلے دن سے ہی میرے گردے واش ہونا شروع ہو گئے تھے۔
اسی طرح ایک ماہ گزر گیا لیکن کچھ ہاتھ نہ لگا ڈاکٹرز کی کوششیں جاری تھیں۔ جیسی حالت میری تھی یہ ایک ماہ میرے لیے ایک سال تھا، بھائی کو کوئی خبر نہیں کے بہن کیسی ہے، ماں اور پاپا مصروف رہتے تھے،  تائی امی کے بچے ویسے ہی بات کم کرتے تو ان سے کوئی امید رکھنا ہی غلط ہوتا اور بڑی بہن تو شادی شدہ ہیں وہ بھی لندن میں تو میرے لیے کچھ کر بھے نہیں سکتیں۔ میں ہر روز دروازے پر دیکھتی رہتی کے ابھی ماں آئے گی اور میرا نام لے کر ہاتھ پکڑ کر مجھے تسّلی دے گی کے فکر نہ کرو جلد ٹھیک ہو جاؤ گی۔ اسی طرح 3 ماہ گزر گئے اور تیسرے ماہ  کے آخر میں میرے گردے واش ھوۓ لیکن اگلے دن ہی میری حالت اور بگڑ گئی اُس وقت کچھ حسرتیں تھیں کے ماں پاس ہو اور میں دیکھتی رہوں اُنکو، پاپا سے جی بھر کر باتیں کروں اور بھائی کو پیار سے ایک بار بھائی جان کہہ کر گلے لگا لوں پر یہ کب ممکن ہو گا؟  حالت ایسی تھی ڈاکٹر آئے  مجھے دوائی دی اور انجکشن لگا دیا پھر میں سو گئی، میرے سوتے سوتے ڈاکٹر نے گھر میں اطلاع دی کہ اب آخری موقع ہے صبح آپ سب آ کر مل لیں۔
صبح جب میری آنکھ کُھلی تو سب گھر والے میرے ارد گرد کھڑے ھوۓ تھے میں نے آنکھیں دوبارہ بند کی اور کھولیں کیوں کہ میں یقین نہیں کر پا رہی تھی کہ سب یہاں میرے پاس ہیں۔  میں اُن سب کو صاف صاف دیکھ سکتی تھی میری آنکھوں میں کوئی اندھیرا نہیں تھا، مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے مجھے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں۔ ماں کی ایک آنکھ سے آنسو نکلا تو میں نے کہا آپ کیوں رو رہی ہیں؟ سب ٹھیک ہے میں بلکل ٹھیک ہوں،  وہ اور رونے لگ گئیں کیوں کہ مجھے نہیں معلوم تھابس میں زندگی کے کچھ دن ہی جینے والی ہوں۔ پاپا پاس کھڑے سر کو جھُکاے ھوۓ تھے، تایا ابو اور اُنکی فیملی ایک کونے میں کھڑے تھے جیسے اُنکو کسی چیز کا پچھتاوا ہو۔ بھائی بس مجھے ہی دیکھی جا رہے تھے۔ اتنی دیر میں ڈاکٹر آئے اور کہنے لگے: شبانہ کی حالت پہلے سے بھی زیادہ خراب ہے اب ہم کچھ کہہ نہیں سکتے ہم نے اپنی پوری کوشش کی لیکن گردے نہیں مل سکے ہم معذرت چاھتے ہیں باقی اللّه پر ہے وہ جسکو چاہے زندگی دے اور جسکو چاہے موت دے کیونکہ موت تو برحق ہے، وہ آنی ہی آنی ہے، یہ الفاظ سن کر سب زور زور سے رونے لگے لیکن میری آنکھ میں کوئی آنسو نہ تھا آنکھیں خشک ہو چُکی تھی میں اِن 3 ماہ میں۔ ماں روتے روتے کہنے لگیں کہ میں دوں گی اپنا گردہ، اتنی دیر میں پاپا بولے نہیں میں اپنی بیٹی کو گردہ دوں گا۔ دراصل اُنکو پہلے لگا یہ تھا کے پیسوں سے زندگی خرید لیں گے۔ باری باری سب بولے میں دیتا ہوں، میں دیتی ہوں۔ میں نے چیخ کر کہا نہیں چاہیے مجھے کچھ بھی بس آپ سب چُپ رہیں، ماں قریب آ کر میرے چہرے کو پکڑ کر کہتی ہیں: نہیں بیٹا ایسا نہ کہو میں تیار ہوں تم جلد ٹھیک ہو جاؤ گی۔ کچھ سیکنڈ خاموش رہی میں، لیکن ماں کی بات نے مجھے خاموش نہیں رکھا اور میں بولی: ماں اُس وقت کہاں تھیں جب میں یہ الفاظ سننے کو ترس رہی تھی؟ اس وقت آپکو یاد نہیں آئی جب آپ کے آنے کا انتظار کر رہی تھی؟ تب بھی مجھے آپکا گردہ نہیں چاہے تھا صرف یہ الفاظ سننا چاہتی تھی میں۔ میں نے ماں کی طرف مُسکرا کر دیکھا اور گردہ لینے سے انکار کر دیا۔
پاپا کہتے تمہیں زندہ رہنے کے لیے  اِس کی ضرورت  ہے ابھی بھی وقت ہے کیوں کر رہی ہو ایسا؟ میں بولنا نہیں چاہتی تھی بہت پیار کرتی  ہوں اِن سب سے۔ لیکن بولنے پرمجبور تھی کہ شاید اِنکو کچھ سمجھ آ جائے تو میرے مرنے کے بعد کسی اور کے ساتھ ایسا نہ ہو۔ پاپا کا ہاتھ پکڑا اور روتے ہوے کہا: پاپا آپ اگر مجھے گردہ دیں گے تو زندگی خریدنے کے لیے پیسے کون کمائے گا؟ بھائی کی طرف دیکھتے ھوۓ بولی: بھائی آپ کیوں راضی ہو گئے؟ اب آپ میرے لیے خود کو چوٹ دیں گے؟ تایا ابو کو دیکھا تو اُنکو بس یہ کہا: میرے اپنے ماں باپ مجھے ہسپتال لاچار چھوڑ گئے تو مجھے آپ سب سے بھی کوئی شکوہ نہیں۔
سب کی آنکھوں میں آنسو تھے، لیکن میں بولے جا رہی تھی۔ چُپ کیوں ہیں؟  آپ سب نے سوچا تھا کے پیسوں سے زندگی خرید لیں گے؟ پر یہ کیوں نہیں سوچا کہ رشتے کیسے خریدیں گے؟ اور سب سے بڑھ کر، بیٹی کیسے خریدیں گے؟ ہمارے پاس پیسہ ہے لیکن پیار محبت اور وہ احساس جو ہر رشتے میں ہونا چاہیے وہ کہاں ہے؟  میرے آنسو رُکنے کا نام نہیں لے رہے تھے- ایک دل تھا اُن سے بات ہی نہ کروں لیکن دوسری طرف حل چل تھی کے بس ابھی موت آ جائے۔ سب کے چہرے سے لگ رہا تھا کہ ان سب کو دُکھ ہے میرے جانے کا اور پچھتاوا بھی ہے کے پہلے کیوں نہیں قدم اٹھایا۔۔۔سب اپنی ذہانت کا تماشا دیکھ رہے تھے امیر ہونے کے لالچ نے اِنکو ہر رشتے کے سُکھ دُکھ سے اندھا اور بیزار کر رکھا تھا ۔  اچانک ڈاکٹر نے أکر دروازہ کھولا اور کچھ کہنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن جلدی میں آنے کی وجہ سے اُنکا سانس پھولا ہوا تھا، سب تھوڑا حیران بھی ہوئے اور سوچ میں پڑ گئے، ڈاکٹر کی کچھ دیر کی خاموشی نے سب کو ڈرا دیا تھا۔ اصل میں ڈاکٹر نے دوبارہ میری رپورٹس کی جانچ پڑتال کی تھی تو وہ رہ نہ سکے اور کچھ بتانے آ گئے۔  ڈاکٹر صاحب بولے: دراصل بات یہ ہے کے گردے خراب ہونے کے ساتھ ساتھ اِنکو جگر کا بھی مسئلہ ہے جو ٹھیک تو ہو جائے گا مگر پہلے گردے کا ٹھیک ہونا ضروری ہے اور آپ سب تو دینا نہیں چاہتے اس لیے اِسی تکلیف میں آپ اِنکو ہمارے پاس چھوڑ دیں آپ گھر جا کر آرام کریں،ہم سب سنبھال لیں گے۔ جب آپ کی بیٹی کو کچھ ہو گا تو ہم اطلاع کر دیں گے۔
میں ڈاکٹر صاحب کی بات پر ہنس پڑی کیوں کہ میں جان گئی تھی مجھے کچھ نہیں ہے یہ سب ڈاکٹر نے جھوٹ کہا تھا تاکہ یہ سب سن کر میرے گھر والوں کو احساس ہو کہ یہ پہلے ایسا ہی کر چکے ہیں ماں نے زاروں قطار سے رونا شروع کر دیا اور میرے آگے گڑگڑانے لگیں: شبانہ مان جا بیٹی ہم سب تجھ سے بہت پیار کرتے ہیں ہم سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے۔ ماں کو اِس حالت میں دیکھ کر میں نے ہاں کر دی، ڈاکٹر نے پھر بتا دیا کے شبانہ کو جگر کا کوئی مسئلہ نہیں ہے میں بس وہ دن یاد دلا رہا تھا جب آپ  اپنی بچی کو ے یہاں چھوڑ کر گئے تھے۔
سب بہت شرمندہ  تھے اور اُس روز سب نے اپنی روزانہ کی روٹین ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ رشتے کی اہمیت سمجھ آنے لگی سب کو اور اپنے امیروں کی طرح رہنے والے طور طریقے کو بدلہ۔ اور رہی بات میری تو میں ابھی بھی بیمار ہوں اور اس بیماری سے لڑ رہی ہوں- آج سے 2 دن بعد میرا آپریشن ہے میری ماں مجھے گردہ دینے والی ہیں م۔ میں بہت خوش بھی ہوں کیونکہ اب سب کو رشتوں کی قدر ہونے لگی لیکن اس بات کا دکھ دُکھ بھی ہے کہ  اب میری صحت وہ نہیں رہے گی جو 2 گردوں کے ساتھ تھی۔ امید ہے بہت جلد ٹھیک ہو جاؤں گی۔
اِس کہانی کو لکھنے کا مقصد لوگوں کو رشتوں کا احساس دلانا تھا کیونکہ ہم میں سے بہت لوگ رشتوں کی قدر کرنا بھول چُکے ہیں، احساس نام کی چیز ہم میں اب بلکل ختم ہو چُکی ہے۔ رشتوں کو کھونے سے پہلے ہمیں سمجھ جانا چاہے کے کہیں کچھ غلط تو نہیں ہو رہا کیوں کہ پیسہ گھر خرید سکتا ہے،  گاڑی خرید سکتا ہے مگر رشتے نہیں، ماں، بہن،  بھائی،  نہیں خرید سکتا۔ آپ چاہے امیر ہوں یا غریب، بس رشتوں کو ایک قیمتی موتی کی طرح سنبھال کر رکھیں۔ کب کہاں کچھ ہو جائے بھنک تک نہیں لگتی۔ کسی نے خوب کہا ہے: "رشتے خون کے نہیں احساس کے ہوتے ہیں بس خیال رکھیں سب کا۔"

Posted: 13 Apr 2021

Visit for more

Joined in Dec 2020


() ()

Misbah

Bohat khoob♥️
() (168 days, 1 hour, 45 minutes ago)